جو دل میں نعت مرے اعتکاف کرتی ہے

جو دل میں نعت مرے اعتکاف کرتی ہے

مدارِ قلب کا خوشبو طواف کرتی ہے

 

مدینہ خواب میں اس روز دیکھ سکتے ہیں

لڑی درود کی جب روح صاف کرتی ہے

 

طویل سانس لے ، طیبہ سے ہو کے آئی ہوں

قریب آ کے ہوا انکشاف کرتی ہے

 

یہ نعت ہے جو بناتی ہے روشنی کا دیا

دلِ سیاہ میں ایسے شگاف کرتی ہے

 

مجھے ملا ہے شرف خطۂِ مدینہ سے

زمین شان سے یہ اعتراف کرتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کائناتِ نعت ،محدودات میں آتی نہیں
منور صبح ہوگی روضۂ خیرالوریٰ ہوگا
نبی کا نام جب میرے لبوں پر رقص کرتا ہے
جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہوگا
کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے
کلامِ احمدِ مرسل سمندر ہے لطافت کا
اے خدا شكر كہ اُن پر ہوئیں قرباں آنكھیں
ہستی پر میری مولا آقا کا رنگ چڑھا دے
روحِ دیں ہے عید میلادُالنبی
شب غم میں سحر بیدار کر دیں

اشتہارات