اردوئے معلیٰ

Search

جو دیکھا کرتا تھا صد ہزاراں برس سے جبریل اِک ستارہ

وہ بخششِ عام کا وسیلہ ، وہ رحمتِ کُل کا استعارہ

 

شرَف سے عاری ہے زندگانی ، عمل سے محروم فردِ عصیاں

نیازِ مدحت کا سبز کاغذ کرے گا پُورا مرا خسارہ

 

بَلا کی سرکش ہے موجِ دریا ، خطَر فزوں ہے مگر مجھے کیا؟

خیالِ شہرِ نوید پروَر اُڑا کے لے آئے گا کنارہ

 

چلا ہُوں جاءوک کے سہارے ، بہ سُوئے شہرِ شفیع اعظم

وہیں سے ہو گی گُلو خلاصی ، وہیں سے ہونا ہے اِک اشارہ

 

وہ بے نیازِ خیالِ امروز و خود کفیلِ سوالِ فردا

جو مژدہ یابِ عطائے پیہم ہے ، جس کو تیرے کرم کا چارہ

 

ابھی تو ہُوں وقفِ بیقراری ، بہ آہِ سوزاں ، بہ اشکِ لرزاں

چلے گی جب بادِ کوئے رحمت ، بجھے گا فرقت کا تب شرارہ

 

ورَق ورَق پر کتابِ ہستی میں ، ایک ہی حرف مُرتسَم ہے

اُسی کی باتیں ہیں زیرِ عنواں ، ہے جس کا عنوان پر اجارہ

 

خیالِ تمثیل کی حدوں سے ورا ہے مقصودؔ اُس کی مدحت

وہ زلفِ والیل صبح پروَر ، وہ نقشِ نعلین ماہ پارہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ