اردوئے معلیٰ

جو روشن حلیمہ کا گھر دیکھتے ہیں

بفیض شہ بحر و بر دیکھتے ہیں

 

بشر کہنے والے بشر دیکھتے ہیں

مگر ان کو ہم عرش پر دیکھتے ہیں

 

ہیں بکھرے ہوئے سارے عالم میں جلوے

جہاں تک ہے جن کی نظر دیکھتے ہیں

 

شب و روز امت کی بخشش کی خاطر

شہ دیں کی آنکھوں کو تر دیکھتے ہیں

 

ہم اپنے تصور کے قربان جائیں

مدینے کی شام و سحر دیکھتے ہیں

 

کریں پیش وہ مصطفیٰ کا وسیلہ

جو اپنی دعا بے اثر دیکھتے ہیں

 

وہ ہے صرف سرورؔ غبارِ مدینہ

بہت جس کو شمس و قمر دیکھتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات