جو زلف یار لہرائی بہت ہے

جو زلف یار لہرائی بہت ہے

یہ دل اسکا تمنائی بہت ہے

 

مرا دامن نہیں خالی کہ اس میں

متاع درد تنہائی بہت ہے

 

تری خاموش آنکھیں کہہ رہی ہیں

غضب ہے ان میں گویائی بہت ہے

 

میں جھوٹے شہر کا باسی ہوں لیکن

مری باتوں میں سچائی بہت ہے

 

یہ صحرائے محبت ہے مسافر

یہاں پر آبلہ پائی بہت ہے

 

تمہاری خاک پا ہے ان کا سرمہ

جبھی آنکھوں میں بینائی بہت ہے

 

ہمارا آشیانہ دیکھتے ہی

خوشی سے برق لہرائی بہت ہے

 

سنبھل کر بحر الفت میں اترنا

کہ اس پانی کی گہرائی بہت ہے

 

میں دشت عشق کا ہوں اک مسافر

سو وحشت مجھ کو راس آئی بہت ہے

 

بہ صدق دل جو کی جائے کسی سے

تو نوری ایک اچھائی بہت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ