اردوئے معلیٰ

جو سب سے پوشیدہ رہ کے سب کو لُبھا رہا ہے

وہی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے

 

جو خیر و شر ہیں اسی نے تخلیق کی ہے اُن کی

وہ ابنِ آدم کو اِس طرح آزما رہا ہے

 

جہاں کی نیرنگیوں میں رکھ کر کشش بلا کی

پھر اپنے بندے کو اپنی جانب بلا رہا ہے

 

اسی سے دل اضطراب میں بھی سکون پائے

وہی ہے جس کا ذکر وجہِ شفا رہا ہے

 

گناہگاروں سے تو خطا پر خطا ہوئی ہے

مگر وہ رحمٰن ہے سراپا عطا رہا ہے

 

وہی ہے شہہ رگ سے اپنے بندے کی جو قریں ہے

وہی تسلّی ہمیشہ اُس کی بنا رہا ہے

 

اسی کی قدرت کے جلوے ہر شئے میں دیدنی ہیں

تجلیّاں اپنی چار سو یوں دِکھا رہا ہے

 

کسی کی عقلوں پہ قعرِ غفلت کی مُہر کر دی

کسی کی نظروں سے سارے پردے اُٹھا رہا ہے

 

وگرنہ میں کیا ہوں اور کیا میری فکر عارف

کرم سے اپنے وہ حمد اپنی لکھا رہا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات