اردوئے معلیٰ

جو سیلِ اشک رُک جاتا سرِ مژگاں تو اچھا تھا

ڈبو دیتا ہمیں یہ موجۂ طوفاں تو اچھا تھا

 

اضافہ کر دیا پرسش نے زخمِ دل کی ٹیسوں میں

نہ کرتے وہ ہمارے درد کا درماں تو اچھا تھا

 

نہ ذہن و دل پہ یہ افسردگی سایہ فگن ہوتی

بھلا دیتا جو ماضی کو دلِ ناداں تو اچھا تھا

 

مصائب بعد میں جب سامنے آئے تو یہ سوچا

تجھے پہلے سمجھ لیتے غمِ دوراں تو اچھا تھا

 

انہیں تنقید کا موقع فراہم کر دیا ہم نے

نہ کہتے ان سے رودادِ غمِ پنہاں تو اچھا تھا

 

ہمیں ان احتیاطوں نے کہیں کا بھی نہیں رکھا

جنوں میں چاک کر لیتے اگر داماں تو اچھا تھا

 

سحرؔ یوں مشتہر ہوتا نہ افسانہ محبت کا

کہانی کو نہ دیتے وہ کوئی عنواں تو اچھا تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات