اردوئے معلیٰ

جو ضم ہو عشقِ نبی میں ،ہے بیکراں دریا

جو ضم ہو عشقِ نبی میں ،ہے بیکراں دریا

اگر ہے نعت سمندر تو نعت خواں، دریا

 

لبوں نے پیاس میں پہنا تھا کَل، لباسِ درُود

گلاس لے کے کھڑے تھے یہاں وہاں دریا

 

کرے گا پار جو خندہ لبی سے آپ کا ہے

مہ و نجوم سفینے ہیں آسماں دریا

 

وہ جن کے شورِ روانی میں ہے ثنا کا سرور

اب ایک دو ہوں تو بولوں فلاں فلاں دریا

 

اُس اِک اشارہِ انگشت کی محبت میں

پھِرے ہے چاند کو لے کر کہاں کہاں ،دریا

 

مرے نبی کی کرامت سے بدر میں بارش

ہوئی تو گھونٹ کے اندر تھا اک نہاں دریا

 

فلک سناتا ہے جب رات کو ثنائے نبی

تو گیلی ریت پہ بنتا ہے سارباں ،دریا

 

درود پڑھتی ہوئی بارشیں پہاڑوں کی

بدن پہ اوڑھ کے ہوگا رواں دواں دریا

 

مدینے والوں نے کوثر کے جام پینے تھے

وگرنہ دوڑتا آتا وہ میزباں دریا

 

وہ نقشِ پائے نبی چومتی ہوئی بارش

جب آئی گھونٹ میں، لگتی تھی، بیکراں دریا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ