اردوئے معلیٰ

جو مجھ سے خطا کار و زیاں کار بھی ہوں گے

وہ آپ کی رحمت کے طلبگار بھی ہوں گے

 

جو آپ کی فرقت میں شب و روز ہیں گریاں

عشّاق وہی طالبِ دیدار بھی ہوں گے

 

وہ جن کی رسائی ہے درِ فیض رساں تک

وہ عشق و محبت میں گرفتار بھی ہوں گے

 

جو گنبدِ خضریٰ کی طرف دیکھ رہے ہیں

وہ لطف و عنایت کے سزاوار بھی ہوں گے

 

سرکار لکھائیں گے اُنھیں نعت خود اپنی

جو اُن کے ثنا خوان و قلمکار بھی ہوں گے

 

محشر کا نہیں خوف کہ واں آقا و مولا

محبوبِ خدا شافع و غم خوار بھی ہوں گے

 

سرکار کی گلیوں میں ظفرؔ خیزاں و اُفتاں

کچھ صاحبِ دل، صاحبِ اسرار بھی ہوں گے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات