جو مجھ سے خطا کار و زیاں کار بھی ہوں گے

جو مجھ سے خطا کار و زیاں کار بھی ہوں گے

وہ آپؐ کی رحمت کے طلبگار بھی ہوں گے

 

جو آپؐ کی فرقت میں شب و روز ہیں گریاں

عشّاق وہی طالبِ دیدار بھی ہوں گے

 

وہ جن کی رسائی ہے درِ فیض رساں تک

وہ عشق و محبت میں گرفتار بھی ہوں گے

 

جو گنبدِ خضریٰ کی طرف دیکھ رہے ہیں

وہ لطف و عنایت کے سزاوار بھی ہوں گے

 

سرکارؐ لکھائیں گے اُنھیں نعت خود اپنی

جو اُنؐ کے ثنا خوان و قلمکار بھی ہوں گے

 

محشر کا نہیں خوف کہ واں آقا و مولاؐ

محبوبِ خداؐ شافع و غم خوار بھی ہوں گے

 

سرکارؐ کی گلیوں میں ظفرؔ خیزاں و اُفتاں

کچھ صاحبِ دل، صاحبِ اسرار بھی ہوں گے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

درِ سرکارؐ تک رسائی ہو
اِک زمانہ فراق میں گزرا
فرازِ طُور سے غارِ حرا تک
خدا تک رہنما میرے محمدؐ
ممدوح ! کرشمہ ہے تری چارہ گری کا
مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے
امکان سے وسیع ہوئی ، قد سے سر بلند
متاعِ زیست کا ہر پل سعید کرتا ہُوں
عطا کا دستِ یقیں تھا کمال کی جانب
ہر گلی ہر شہر منور ہے

اشتہارات