جو نامِ سرورِ دیں رٹ رہے ہیں

جو نامِ سرورِ دیں رٹ رہے ہیں

فلک پر تذکرے ان کے چھڑے ہیں

 

نبی کا ذکر میں کرتا ہوں جس دم

فرشتے بھی مرے لب چومتے ہیں

 

نبی کے شہر میں خارِ مغیلاں

گلوں کو آئینہ دکھلا رہے ہیں

 

چلے اس سے بھی آگے سرور دیں

جہاں جبریل بھی ٹھہرے ہوئے ہیں

 

جنہیں دنیا کہے شاہانِ عالم

وہ کوئے سرورِ دیں میں پڑے ہیں

 

مرے سرکار کی خندہ لبی کے

ستارے استعارے بن گئے ہیں

 

ستا سکتا نہیں خورشید محشر

یہ سائے میں نبی کے آ گیے ہیں

 

مرے سرکار کی ہے آمد آمد

کرم کے شامیانے لگ رہے ہیں

 

جہاں میں لائق تقلید ہیں وہ

جو ان کے راستے پر چل رہے ہیں

 

تری مدحت کا آجائے سلیقہ

یہی رب سے دعا ہم مانگتے ہیں

 

مجیبؔ اس واسطے ہے ناز ہم کو

گدا گر ہم شہِ کونین کے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ