جو نغمے نعت کے آنکھوں کو کر کے نم سناتے ہیں

جو نغمے نعت کے آنکھوں کو کر کے نم سناتے ہیں

تو قدسی پھول ان کے نام پر پیہم لٹاتے ہیں

 

خدا دامان ان کے دولتِ رحمت سے بھرتا ہے

جو نقشِ نعل کا گھر بار میں پرچم لگاتے ہیں

 

ابھی صحنِ چمن سے بادِ کوئے شاہ گزری ہے

گلوں پر حسنِ رنگ و نور کے موسم بتا تے ہیں

 

نگاہِ کیمیا سے خاک بھی زر ناب ہوتی ہے

سفالی جام کو سرکار جامِ جم بناتے ہیں

 

سجا کر نوکِ نعلینِ نبی پر ہر شرف اپنا

ہم اپنے عجز کو اپنی جبیں کا خم بناتے ہیں

 

حسیں شانوں پہ ڈھلکے عنبریں سرکار کے گیسو

مری یادوں میں آ کر دل کے سارے غم مٹاتے ہیں

 

ہوائے کوئے بطحا کاش میرے کان میں کہہ دے

چلو اشفاق تجھ کو سرورِ عالم بلاتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہیں ہے کوئی ذات پیارے نبی سی​
باغِ جنت سے محمدؐ کی خبر آئی ہے
خیال و فکر میں اپنے قریب پاؤں نبیؐ
جو نور بار ہوا آفتابِ حسنِ ملیح
دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
فرشتے صبح دم آئیں، مرے آقاؐ کے قدموں میں
نہ تیرنے کے ہنر سے واقف نہ ہم ہیں پختہ سفینے والے
جب مدینے کی بات کرتا ہوں
جبیں میری ہو اُنؐ کا سنگِ در ہو
انداز زندگانی کے سارے بدل کے آ

اشتہارات