جو نگاہِ شہِ امم ہو جائے

جو نگاہِ شہِ امم ہو جائے

ایک ادنیٰ بھی محترم ہو جائے

 

مصطفیٰ کہہ دیں جو غلام اپنا

خدشۂ حشر کالعدم ہو جائے

 

نقشِ پا ان کے مہرباں ہوں اگر

کوئے دل غیرت ارم ہو جائے

 

آرزو ہے فقط یہی آقا

میرا دل آپ کا حرم ہو جائے

 

چاہتا ہوں کہ میری مٹی بھی

خاکِ شہرِ نبی میں ضم ہو جائے

 

دیکھ کر روضۂ نبی کا عروج

سرِ ہفت آسماں بھی خم ہو جائے

 

یا خدا میرے صفحۂ دل پر

صرف نام نبی رقم ہو جائے

 

مہرباں ہو اگر غمِ شبیر

دور دارین کا الم ہو جائے

 

عمر گزرے جو نعت پڑھتے مجیبؔ

پھر تو آساں رہِ عدم ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ