جو نیست ہو چکا تھا عشق ہست کیسے ہوگیا

جو نیست ہو چکا تھا عشق ہست کیسے ہوگیا

مری اسیریوں کا بندوبست کیسے ہوگیا

 

بڑا ہی عام تھا کبھی مرا غلام تھا کبھی

کمال ہے وہ شخص خود پرست کیسے ہو گیا

 

اسے نصیب تھیں محبتوں میں دلنوازیاں

وہ خودکفیل آج تنگدست کیسے ہوگیا

 

ابھی تو وقت کی کوئی خراش بھی نہیں پڑی

تو پھر غرور آئینوں کا پست کیسے ہوگیا

 

یہ کس طرح سمٹ گئیں زماں مکاں کی وسعتیں

جو فاصلہ صدی کا تھا وہ جست کیسے ہوگیا

 

زہے نصیب آپ کیسے ہار مان آئے ہیں

وہ طنطنہ نہاں پس- شکست کیسے ہوگیا

 

تمہارے قرب کی یہ بھوک کم ہوئی نہ مٹ سکی

خبر نہیں کہ دل یہ فاقہ مست کیسے ہوگیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ