جگر بچا ہی نہیں ہے تو کس کو پروا ہے

جگر بچا ہی نہیں ہے تو کس کو پروا ہے

کہ چاکِ زخمِ جگر کو سیا سیا ، نہ سیا

 

جو کاٹتے تھے مسافت ، مسافتوں میں کٹے

سفر کا کیا ہے کسی نے کیا کیا ، نہ کیا

 

فریب عشق ، ترا رقص ہی قیامت ہے

فریب حسن کسی نے دیا دیا ، نہ دیا

 

ہر ایک تہمتِ وحشت ، ہمی سے وابستہ

ہمارا نام کسی نے لیا لیا ، نہ لیا

 

بس ایک قطرہِ آبِ بقاء رہی چاہت

اب ایک قطرے کا کیا ہے پیا پیا ، نہ پیا

 

بلائے غم کو جو سونپا گیا تھا اک شاعر

بلائے غم کی بلا سے جیا جیا ، نہ جیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

دوائیں رکھتے ہوئے، نشتروں کے ہوتے ہوئے
بازی انا کی، بھوک سے کیسی بری لگی
شب فراق کا منظر نہیں بدلنے دیا
خوشی کی خبریں نہیں چلاتے ہیں ، گریہ زاری چلا رہے ہیں
زمانے بھر کی گردشوں کو رام کر کے چھوڑ دوں
اور اک غم کا اعتراف ہوا
لوگوں نے اس لئے مجھے پاگل نہیں کہا
لہروں پہ سفینہ جو مرا ڈول رہا ہے
شجر کہاں تک بھلا ہواؤں کے کان بھرتے
قربت سے ناشناس رہے ، کچھ نہیں بنا