اردوئے معلیٰ

جگر بچا ہی نہیں ہے تو کس کو پروا ہے

جگر بچا ہی نہیں ہے تو کس کو پروا ہے

کہ چاکِ زخمِ جگر کو سیا سیا ، نہ سیا

 

جو کاٹتے تھے مسافت ، مسافتوں میں کٹے

سفر کا کیا ہے کسی نے کیا کیا ، نہ کیا

 

فریب عشق ، ترا رقص ہی قیامت ہے

فریب حسن کسی نے دیا دیا ، نہ دیا

 

ہر ایک تہمتِ وحشت ، ہمی سے وابستہ

ہمارا نام کسی نے لیا لیا ، نہ لیا

 

بس ایک قطرہِ آبِ بقاء رہی چاہت

اب ایک قطرے کا کیا ہے پیا پیا ، نہ پیا

 

بلائے غم کو جو سونپا گیا تھا اک شاعر

بلائے غم کی بلا سے جیا جیا ، نہ جیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ