جگہ مل جائے مدفن کی مدینے میں

 

جگہ مل جائے مدفن کی مدینے میں

لِکھی ہو کاش میری بھی مدینے میں

 

مری سانسیں مجھے دھوکہ نہ دے جائیں

بلا لو مصطفیٰ ﷺ جلدی مدینے میں

 

نہ جانے کیسے میں خود تو چلا آیا

پہ آنکھیں رہ گئیں میری مدینے میں

 

ہو افطاری مری ملتان میں آقاؐ

یہ خواہش ہے کروں سحری مدینے میں

 

کہیں ٹھہرا ترا دل مرتضیٰ اشعرؔ

کہیں بھٹکی نگہ تیری مدینے میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں
نہ عرش، ایمن نہ اِنِّیْ ذَاہِبٌ میں میہمانی ہے
آنسو مری آنکھوں میں نہیں آئے ہوئے ہیں
سوزِ دل چاہیے، چشمِ نم چاہیے اور شوقِ طلب معتبر چاہیے
آنکھوں کو جسجتو ہے تو طیبہ نگر کی ہے
کیا کچھ نہیں ملتا ہے بھلا آپ کے در سے
وہ کیا جہاں ہے جہاں سب جہاں اترتے ہیں
عکس روئے مصطفی سے ایسی زیبائی ملی
تو سب سے بڑا، تو سب سے بڑا، سبحان اللہ، سبحان اللہ
درِ نبی پہ نظر، ہاتھ میں سبوۓ رسولؐ