جگہ مل جائے مدفن کی مدینے میں

 

جگہ مل جائے مدفن کی مدینے میں

لِکھی ہو کاش میری بھی مدینے میں

 

مری سانسیں مجھے دھوکہ نہ دے جائیں

بلا لو مصطفیٰ جلدی مدینے میں

 

نہ جانے کیسے میں خود تو چلا آیا

پہ آنکھیں رہ گئیں میری مدینے میں

 

ہو افطاری مری ملتان میں آقا

یہ خواہش ہے کروں سحری مدینے میں

 

کہیں ٹھہرا ترا دل مرتضیٰ اشعرؔ

کہیں بھٹکی نگہ تیری مدینے میں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ