جھانکوں جو دل میں اپنے، مدینہ دکھائی دے

 

جھانکوں جو دل میں اپنے، مدینہ دکھائی دے

ہر گوشہ مرے دل کا مہکتا دکھائی دے

 

یادِ نبی کی چاندنی میں ہر طرف مجھے

ذرّہ نظر جو آئے، نگینہ دکھائی دے

 

صلِ علیٰ نبیِّنا وردِ زُباں رہے

آنکھو! تمہیں جو گنبدِ خضرا دکھائی دے

 

جب یاد آئیں شہرِ مدینہ کے روز وشب

جاں مضطرب ہو، قلب تڑپتا دکھائی دے

 

شہرِ نبی کو جاؤں میں، پھر سے خدا کرے

ترسی نظر کو روضہ خواجہ دکھائی دے

 

سوتا ہوں راات دل میں تمنّا لیے ہوئے

یارَب! کبھی حضور کا مکھڑا دکھائی دے

 

کہتا ہوں نعتِ مصطفےٰ خالد میں جس گھڑی

صَلوا عَلَیہِ ہر طرف لکّھا دکھائی دے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

طبیعت فطرتاََ پائی سخن کے واسطے موزوں
ہے یہ میدانِ ثنا گر نہ پڑے منہ کے بل
کیفِ یادِ حبیب زیادہ ہے
(سلام) نورِ چشمِ آمنہ اے ماہِ طلعت السلام
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے
سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کیلئے
سرِ میدانِ محشر جب مری فردِ عمل نکلی
راگ ہے ’’باگیشری‘‘ کا اور بیاں شانِ رسول
خواب میں کاش کبھی ایسی بھی ساعت پاؤں

اشتہارات