اردوئے معلیٰ

جھجھکتے رھنا نہیں ھے ادا محبت کی

جھجھکتے رھنا نہیں ھے ادا محبت کی

سو ڈرتے ڈرتے اگر کی تو کیا محبت کی

 

میاں ! یہ سوچ کے کرنا خطا محبت کی

شکستِ دل ھے کم ازکم سزامحبت کی

 

گِنے چُنے ھوئے سینوں میں جھانکتا ھے یہ نُور

ھر ایک پر نہیں ھوتی عطا محبت کی

 

تمہارے سامنے رکھی ھیں مَیں نے راھیں دو

سو ایک چُن لو، محبت کی یا محبت کی ؟

 

بہت حسِین ھے تُو پھر بھی نامکمل ھے

سو دے رھا ھُوں تجھے مَیں دُعا محبت کی

 

تجھے مِلا تو مَیں سب اعتدال بُھول گیا

سو ابتدا سے ھی بے انتہا محبت کی

 

وہ پتھّروں کا زمانہ تھا، لوگ پتھّر تھے

پھر ایک روز ھوئی ابتدا محبت کی

 

نئے سِرے سے مجھے بھا گیا وہ جب بھی مِلا

سو ایک شخص سے مَیں بارھا محبت کی

 

یہاں تو ھار کے مِلتی ھے جیت، جیت کے ھار

یہ بات سوچ کے بازی لگا محبت کی

 

مَیں تیرے حُسن پہ ایمان لا کے کہتا ھوں

کبھی نماز نہ ھوگی قضا محبت کی

 

کسی بھی اور صِلے کی نہیں تلاش مُجھے

محبت آپ ھے فارس جزا محبت کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ