اردوئے معلیٰ

نعت رسول مقبول

جھلستی دوپہر میں تو نے انسان کو بچایا ہے​

تو پھر اس میں غلط کیا ہے کہ تو رحمت کا سایہ ہے​

 

دلوں کو جوڑ کر تو نے محبت کی طرح ڈالی​

مٹا کر غیریت کو پیار کا جادو جگایا ہے​

 

ترے نقشِ کفِ پا نے سرِ صحرائے بے پایاں​

جو رستہ بھول بیٹھے تھےانہیں رستہ دکھایا ہے​

 

جہاں ڈوبا ہوا تھا خامشی کے اک سمندر میں​

تری آواز کی ہر موج نے طوفاں اٹھایا ہے​

 

تری ضو سے چمک اٹھی جبینِ آدمِ خاکی​

تو وہ خورشید ہے جو تیرگی میں مسکرایا ہے​

 

سکھایا ہے تجھی نے زندگی کا ڈھنگ عالم کو​

چراغِ رہگذر ایسا یہاں کس نے جگایا ہے​

 

غزلؔ میں اس کی شانِ دلبری تجھ کو بتاؤں کیا​

زمانے میں تھے ہم کافر ہمیں مومن بنایا ہے​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات