جھلستی دوپہر میں تو نے انسان کو بچایا ہے​

نعت رسول مقبول ﷺ

جھلستی دوپہر میں تو نے انسان کو بچایا ہے​

تو پھر اس میں غلط کیا ہے کہ تو رحمت کا سایہ ہے​

 

دلوں کو جوڑ کر تو نے محبت کی طرح ڈالی​

مٹا کر غیریت کو پیار کا جادو جگایا ہے​

 

ترے نقشِ کفِ پا نے سرِ صحرائے بے پایاں​

جو رستہ بھول بیٹھے تھےانہیں رستہ دکھایا ہے​

 

جہاں ڈوبا ہوا تھا خامشی کے اک سمندر میں​

تری آواز کی ہر موج نے طوفاں اٹھایا ہے​

 

تری ضو سے چمک اٹھی جبینِ آدمِ خاکی​

تو وہ خورشید ہے جو تیرگی میں مسکرایا ہے​

 

سکھایا ہے تجھی نے زندگی کا ڈھنگ عالم کو​

چراغِ رہگذر ایسا یہاں کس نے جگایا ہے​

 

غزلؔ میں اس کی شانِ دلبری تجھ کو بتاؤں کیا​

زمانے میں تھے ہم کافر ہمیں مومن بنایا ہے​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

انﷺ کی ضیا سے پھیلی صداقت کی روشنی
اشک کو صَوت نہ کر، صَوت کو گفتار مکُن
کمالِ جستجو تُو ہے، جمالِ آرزو تُو ہے
کتابِ عرشِ ثنا کا عنواں ـ’’انا محمد‘‘
مرا دل تڑپ رہا ہے
نبی اکرمؐ شفیع اعظمؐ دکھے دلوں کا پیام لے لو
آنکھ گنبد پہ جب جمی ہوگی
جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے
صبح بھی آپؐ سے شام بھی آپؐ سے
جو شمع یادِ نبی کی جلائی جاتی ہے