اردوئے معلیٰ

جہانِ شوق میں تدبیرِ انصراف کروں

جہانِ شوق میں تدبیرِ انصراف کروں

تمھارے نقشِ کفِ پا کا اب طواف کروں

 

اُبھر بھی سکتا ہے اس پر سراپا عکسِ جمال

مَیں اپنا آئینۂ دل تو پہلے صاف کروں

 

مطافِ کعبہ میں ہی تھا یہ شوق دامن گیر

زمینِ شہرِ مدینہ کو اب مطاف کروں

 

ہو ایک اوجِ تخیّل پہ نعتِ نا گفتہ

تو اذن دے تو مَیں حرفوں سے انحراف کروں

 

مَیں پچھلی بار تو مکّے سے آیا تھا طیبہ

سو اب کے دل کا تقاضا ہے بَر خلاف کروں

 

مَیں اپنے کعبۂ دل کی سیاہ پوشی کو

خیالِ شامِ مدینہ تجھے غلاف کروں

 

حضور! اور تمنا سے دل لرزتا ہے

حضور! حجرئہ مدحت میں اعتکاف کروں

 

مدینہ ہی تو محبت کا ہے اکیلا نشاں

مَیں دل بہ کف اُسی جانب ہی انعطاف کروں

 

اُنہی کے دستِ عنایت میں ہے شفاعتِ کُل

مجھے تو حکم ہے عصیاں کا اعتراف کروں

 

عطائے خاص سے ملتا ہے اذنِ نعتِ نبی

زمانے والو! سنو تو مَیں انکشاف کروں

 

نواز دیں گے وہ مقصودؔ خود اضافتِ خیر

مَیں اپنی نسبتِ بَردہ اُدھر مضاف کروں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ