جہاں میں مرتبہ جس نے بهی چاہا

جہاں میں مرتبہ جس نے بهی چاہا

غلامِ مصطفی خود کو بنایا

 

ترے فرمان کو دل میں بسایا

جہاں میں مرتبہ تب ہم نے پایا

 

خدا سے اور کیا مانگوں محمد

خدا نے امتی تیرا بنایا

 

کہ دل میں دم نہیں باقی رہا اب

مدینہ بهیج دے مجھ کو خدایا

 

ترے محبوب سے ملنا ہے مجھ کو

اجل کو بهیج دے پروردگارا

 

محمد کی ثنا کیسے نہ کرتا

خدا نے خود درودِ پاک بهیجا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہجر میں سوزِ دل تو ہے خیرِ انام کے لیے
ہر چند مدح اس کی سب اہلِ ہنر کریں
شہرِ طیبہ میں میسر روح و دل کو تھا سکوں
کب علم میں اتنی وسعت ہی
یارب کبھی تو خواب میں وہ در دکھائی دے
ہمہ والعصر اور والدّھر ہے عظمت محمدؐ کی
دو عالم میں ہر شے کی جاں ہیں محمدؐ
غم سبھی راحت و تسکین میں ڈھل جاتے ہیں
اُن کی جب بات چلی خوب چلی کیا کہنے!
تری نگاہ سے ذرے بھی مہر و ماہ بنے