جہاں والو! مبارک ہو امام الانبیاء آئے

جہاں والو! مبارک ہو امام الانبیاء آئے

رِسالت کے امیں بن کر حبیبِ کِبریا آئے

 

یتیمو، بے نواؤ، غَم کے مارو مسکراؤ سب

گنہ گارو، سیہ کارو دَرِ انور پہ آؤ سب

بنیں گی بگڑیاں سب کی سخی مشکل کشا آئے

 

دُرودوں اور سلاموں کے ترانے برلبِ عالم

ملائک تھے برابر جشنِ آمد میں خوش و خرم

منوّر ہو گئی دُنیا جب اِس میں مصطفی آئے

 

دوانے جشنِ آمد پر دِیے گھی کے جلاتے ہیں

گلی، کوچے، محلے قمقموں سے جگمگاتے ہیں

سُناتے ہیں یہی مُثردہ خُدا کے دِلربا آئے

 

ربیع النور کی بارہ کی صبحِ نور کیا کہنے!

دلِ مومن ہے شاداں مومنو! مسرور کیا کہنے!

بڑی پُرکیف گھڑیاں ہیں شہِ ارض و سما آئے

 

رضاؔ میلاد کی خوشیاں منانا ہم نہ چھوڑیں گے

ہے جب تک دَم میں دَم محفل سجانا ہم نہ چھوڑیں گے

سدا دھومیں مچائیں گے ہمارے پیشوا آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پڑا ہوں سرِ سنگِ در مورے آقا
آقاﷺ کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو
جب بھی پہنچا ہوں آقاؐ کے دربار تک
روشن ہیں دو جہاں میں بدرالدجی کے ہاتھ
قمر کو شقِ قمر کا حسین داغ ملا
میرے دل میں ہے یاد محمد ﷺ میرے ہونٹوں پہ ذکر مدینہ
والشمس والضحیٰ ہے اگر رُوئے مصطفیٰؐ
گردش میں ہےفلک نہ زمیں پیچ و تاب میں
دیدۂ شوقِ ہمیشہ سے ہی نم رکھا ہے
ملا ہے جب سے پروانہ محمد ﷺ کی گدائی کا​