اردوئے معلیٰ

جہاں پر آبِ رواں سے چٹان ملتی ہے

جہاں پر آبِ رواں سے چٹان ملتی ہے

وہیں سے موج کو اکثر اٹھان ملتی ہے

 

جہاں بھی دستِ توکل نے کچھ نہیں چھوڑا

وہیں سے دولتِ کون و مکان ملتی ہے

 

جو قفلِ ذات کرے ضربِ عشق سے دو نیم

اُسے کلیدِ زمان و مکان ملتی ہے

 

کریں گمان تو جاتی ہے دولتِ ایمان

رہے یقین تو پھر بے گمان ملتی ہے

 

اُسی کا سر سرِ نیزہ پہ رکھا جاتا ہے

مرے قبیلے میں جس کو کمان ملتی ہے

 

فشارِ درد سے ہوتا ہے میرا خامہ رواں

دہانِ زخم کو گویا زبان ملتی ہے

 

زمانہ اب وہ کہاں زورِ بال و پر کا ظہیرؔ

ہوا سے دوستی ہو تو اڑان ملتی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ