اردوئے معلیٰ

جہاں پہ سر تھا کبھی اب ہے سنگِ در کا نشاں

اب اس سے بڑھ کے ترے سجدہ ریز کیا کرتے

 

عذاب یہ ہے کہ رستے میں خود ہی پڑتے تھے

اب اپنے آپ سے آخر گریز کیا کرتے

 

سلگ رہے ہیں سرِ راہِ شوق ، نقشِ قدم

ہم اپنی چال بھلا اور تیز کیا کرتے

 

کِھلے نہیں تھے کہ نظروں میں آ گئے غم کے

تمہاری زلف کو ہم عطر بیز کیا کرتے

 

یہ بدنصیب دلِ سرد ہی نہیں پگھلا

تمہارے عشوہِ جذبات خیز کیا کرتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات