اردوئے معلیٰ

جہاں کہیں بھی اجالا دکھائی دیتا ہے

تمہارا نقشِ کفِ پا دکھائی دیتا ہے

 

یہ سارا عالم امکاں تمہارے سامنے ہے

تمہیں کہو کوئی تم سا دکھائی دیتا ہے

 

عروج سرحد روح الامیں سے بھی آگے

براق آپ کا بڑھتا دکھائی دیتا ہے

 

فرازِ عرش پہ ایوانِ ذاتِ وحدت میں

تمہارے نور کا ہالہ دکھائی دیتا ہے

 

جہاں پہ ممکن و امکاں کا کوئی دخل نہیں

وہاں بھی جلوہ تمہارا دکھائی دیتا ہے

 

اس اک نگاہ کی وسعت پہ دوجہاں صدقے

جسے خدا شبِ اسری دکھائی دیتا ہے

 

نہ اس جمال الہی کا ہے مثیل و نظیر

نہ تم سا کوئی دیکھنے والا دکھائی دیتا ہے

 

بھٹک گیا ہے اندھیروں میں کاروانِ حجاز

نہ راہبر ہے نہ رستہ دکھائی دیتا ہے

 

کوئی پناہ کی صورت نظر نہیں آتی

اک آپ ہی کا سہارا دکھائی دیتا ہے

 

اسی امید پر جیتے ہیں دیکھیے کب تک

دیارِ خواجہ بطحا دکھائی دیتا ہے

 

ملا ہے جب سے مجھے سرو ذوقِ نعتِ رسول

مقدر اپنا چمکتا دکھائی دیتا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات