جہاں کی خاک کا ہر ذرہ اک نگینہ ہے

 

جہاں کی خاک کا ہر ذرہ اک نگینہ ہے

مری نگاہ میں بس ایک وہ مدینہ ہے

 

نظر ہے اُس پہ محمدؐ کی، غم نہیں کوئی

مری حیات کا لہروں پہ جو سفینہ ہے

 

خدا سے ربط کا منشور جس میں آیا ہے

جہاں کاحسن وہ رمضان کا مہینہ ہے

 

نبیؐ کا فیض ہے، گرہیں وجود میں روشن

دل و دماغ کشادہ، جو میرا سینہ ہے

 

مرے نبیؐ کی بدولت، کرم خدا کا ہے

جو اس جہاں میں جینے کا اک قرینہ ہے

 

میں جانتا ہوں یہ بخشالویؔ کہ جنت کا

نبیؐ سے عشق ہی واحد ہمارا زینہ ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات