اردوئے معلیٰ

Search

جیسی ہے بدن میں گل رخ کے ویسی ہی نزاکت باتوں میں

ہونٹوں میں ہے جتنی شیرینی اتنی ہی حلاوت باتوں میں

 

کیا خوب توازن چلنے میں کیا خوب لطافت ہنسنے میں

کیا خوب اداؤں میں شوخی کیا خوب شرارت باتوں میں

 

آنکھوں میں ہے نشہ سا چھایا رخسار ہوئے سرخی مائل

ہونٹوں پہ لرزتے ہیں ارماں پر کیف حرارت باتوں میں

 

زینت کا طریقہ کیا کہنے فیشن کا سلیقہ کیا کہنے

آداب کی رنگت کاموں میں اشعار کی نکہت باتوں میں

 

بیتاب ہیں جس کو سننے کو وہ بات نہ لائیں گے لب پر

مسحور وہ رکھیں گے پھر بھی ایسی ہے نفاست باتوں میں

 

پرواز میں ہستی کی ہم کو کتنی ہی بلندی ہو حاصل

آئے نہ مزاجوں میں شیخی آئے نہ رعونت باتوں میں

 

حل سارے مسائل ہو جائیں آپس کی کدورت مٹ جائے

ہو جھوٹ سے سب کو بے زاری ہو رنگ صداقت باتوں میں

 

اس دور کے شاعر میں لوگو تہذیب و شعور و سوز کہاں

معیار وہی ہے شعروں کا جیسی ہے جہالت باتوں میں

 

جاویدؔ عجب احباب ترے کرتے ہیں یہ ضائع وقت ترا

ہیں علم سے کوسوں دور مگر پھر بھی ہے طوالت باتوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ