اردوئے معلیٰ

Search

جیسے مہک اڑے کبھی گل سے صبا کے ساتھ

مجھ سے بچھڑ گیا وہ مگر کس ادا کے ساتھ

 

شعلہ تو ایک پل نہ تہہ آب رہ سکے

میں ہوں کہ عمر کاٹ دی اس بے وفا کے ساتھ

 

یوں ہاتھ سے گیا وہ کبھی پھر نہیں ملا

اک عمر بھاگتا رہا گو میں ہوا کے ساتھ

 

جو آنکھ دی تو دیکھنا بھی فرض کر دیا

انسان زندہ ہے مگر پوری سزا کے ساتھ

 

جو کچھ کہوں میں سننا بھی پڑتا ہے وہ مجھے

گنبد میں جیسے بند ہوں اپنی صدا کے ساتھ

 

احسن وہ آنکھ ہے تو میں ہوں اس کی روشنی

رشتہ تو دور کا نہیں میرا خدا کے ساتھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ