جیسے چُھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے

 

جیسے چُھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے

مہرِ روشن چُھپ گیا تیری نظر کے سامنے

 

اُس گلَ عارض کی دل آرا پھبن کا ذکر چھیڑ

ہم نفس مجھ بلبلِ خستہ جگر کے سامنے

 

اُس حریمِ ناز تک لے جا یہ پیغام اے صبا

تیرے دیوانے کھڑے ہیں رہگزر کے سامنے

 

کارِ پاکاں را قیاس از خود مگیر سے بو الفضول

سنگریزوں کی حقیقت کیا گہر کے سامنے

 

آفتاب آمد دلیل آفتاب اے شب پرست

اب بھی ظلمت ہے مگر تیری نظر کے سامنے

 

کاش اے طارق مجھے بھی رقصِ بسمل ہو نصیب

خنجرِ مژگانِ مَازَاغَ البَصَر کے سامنے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے
سرکا رکے جلووں سے معمور نظر رکھئیے
نعت کہنا مری قسمت کرنا
لے چلا مجھ کو طالعِ بیدار
جب بھی نگاہ کی ہے کِسی پر حضور نے
چلے زمِین سے جب آپ لامکاں کے لئے
حسن تمام و لطف سراپا تمہی تو ہو
پائندہ تیرا نور اے شمع حرم رہے
نعلین گاہِ شاہ سے لف کر دیئے گئے
شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر

اشتہارات