اردوئے معلیٰ

جی جگر ان پر لٹاتے آئے ہیں

باادب سر کو جھکاتے آئے ہیں

 

رنج فرقت کو مٹانے کے لیے

ہم دیا شب بھر جلاتے آئے ہیں

 

ہو کرم کی اک نظر نور مبیں

دیپ یادوں کی جلاتے آئے ہیں

 

آسمان عشق پر اے سرورا

اشک کے تارے سجاتے آئے ہیں

 

نعمت کونین ہے درد جگر

درد کو مرہم بناتے آئے ہیں

 

مل نہیں سکتی انہیں رب کی رضا

باپ ماں کو جو ستاتے آئے ہیں

 

در پہ عاقب کو بلائیں اب شہا

رسم الفت ہم نبھاتے آئے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات