حاصل ہے دل کو الفتِ پیغمبرِ خدا

حاصل ہے دل کو الفتِ پیغمبرِ خدا

یہ بھی ہے ایک رحمتِ پیغمبرِ خدا

 

دو طفل مردہ کر دئیے زندہ حضور نے

معجز نما ہے دعوتِ پیغمبرِ خدا

 

ہو گی ضرور امتِ سرور مقیمِ خلد

مقبول ہے شفاعتِ پیغمبرِ خدا

 

مقبولِ بارگاہِ الہیٰ ہے وہ بشر

پائی ہے جس نے صحبتِ پیغمبرِ خدا

 

ہر گل چمن میں طبلۂ عطار بن گیا

پہنچی وہاں جو نگہتِ پیغمبرِ خدا

 

دونوں جہاں میں اس کا ٹھکانہ کہیں نہیں

جس دل میں عداوتِ پیغمبرِ خدا

 

پہنچا دے مجھ کو روضۂ انور پر اے نصیب

کب تک رہے گی فرقتِ پیغمبرِ خدا

 

قرآن و آل چھوڑ گئے آپ خلق میں

اُمت نے پائی دولتِ پیغمبرِ خدا

 

اے فوقؔ خلد کی ہے اگر تجھ کو آرزو

دل سے نہ جائے الفتِ پیغمبرِ خدا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ