اردوئے معلیٰ

حاضری بارِ دگر ہو جائے گی

دیکھنا اُن کی نظر ہو جائے گی

 

وصل کی اجلی سحر ہونے کو ہے

ہجر کی شب مختصر ہو جائے گی

 

حالِ دل کہنے سے، یکسر بیشتر

میرے آقا کو خبر ہو جائے گی

 

زندگی وہ زندگی ہو گی، کہ بس

کوئے جاناں میں بسر ہو جائے گی

 

آپ کا رخ حشر میں ہوگا جدھر

رب کی رحمت بھی اُدھر ہو جائے گی

 

آپ کے نعلین کی طلعت ملے

یہ جبیں رشکِ قمر ہو جائے گی

 

پڑ رہو مقصودؔ اُن کے شہر میں

زیست ورنہ در بدر ہو جائے گی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات