حاضر ہیں ترے دربار میں ہم، اللہ کرم، اللہ کرم

حاضر ہیں ترے دربار میں ہم، اللہ کرم، اللہ کرم

دیتی ہے صدا یہ چشمِ نم، اللہ کرم، اللہ کرم

 

ہیبت سے ہر اِک گردن خم ہے، ہر آنکھ ندامت سے نم ہے

ہر چہرے پہ ہے اشکوں سے رقم، اللہ کرم، اللہ کرم

 

جن لوگوں پہ ہے انعام ترا، ان لوگوں میں لکھ دے نام مرا

محشر میں مرا رہ جائے بھرم، اللہ کرم، اللہ کرم

 

ہر سال طلب فرما مجھ کو، ہر سال یہ شہر دکھا مجھ کو

ہر سال کروں میں طوفِ حرم، اللہ کرم، اللہ کرم

 

میری آنے والی سب نسلیں، ترے گھر آئیں ترا گھر دیکھیں

اسباب ہوں اُن کو ایسے بہم، اللہ کرم، اللہ کرم

 

اس ورد میں عمر کٹے ساری، ہونٹوں پہ صبیحؔ رہے جاری

اللہ کرم، اللہ کرم، اللہ کرم، اللہ کرم

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا رب عظیم ہے تو
دُور کر دے مرے اعمال کی کالک‘ مالک!
ہے پاک رتبہ اس بے نیاز کا
خدا کی عظمتیں ہر پل عیاں ہیں
خدا کے نام سے ہی ابتدا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے
خدا معبود مخلوقات کا ہے
خدا میرا زمانوں کا خدا ہے
جمال خانہ کعبہ دل کشا، جاذب نظر ہے
محبت ہو اگر بین الاُمم، ہو بین الاسلامی
خدا مشفق ہے مُونس مہرباں ہے