حالِ دل پر جو عنایت کی نظر ہو جائے

حالِ دل پر جو عنایت کی نظر ہو جائے

وقت سے پہلے شبِ غم کی سحر ہو جائے

اس کا اللہ ہے اللہ کی رحمت اس کی

جس پہ سرکارِ دو عالم کی نظر ہو جائے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہی جو مستوی عرش ہے خدا ہو کر
ستار ہے تو نہ کر مجھے بے پروا
تمنا سروری کی ہے نہ حسرت مال و زر کی
آپؐ کے نُور کی ضیاء کہیے
وہی اللہ کے پیغام بر ہیں
ہمارے رہنما، رہبر محمدؐ
نہ دولت سے ہے، نہ گھر بار سے ہے
ہے شہرہ آپؐ کا سارے جہاں میں
’’ لے رضاؔ سب چلے مدینے کو ‘‘
’’تلاطم کیسا ہی کچھ ہو مگر اے ناخدائے من‘‘