اردوئے معلیٰ

Search

حبيب کبریا مجھکو مدینے میں بلا لیجیے

بلا کر اپنے پائے ناز میں مجھکو سلا لیجیے

 

جدائی اب مدینے کی مجھے جینے نہیں دیتی

مرے آقا مرے مولی مدینے میں بلا لیجیے

 

مہینہ آنے والا ہے رجب کا بعد میں اس کے

ابھی سے اپنے گھر میں محفل خواجہ سجا لیجیے

 

وسیلہ مل ہی جائے گا نبی کے در پہ جانے کا

مگر پہلے مدینہ جانے کی حسرت بسا لیجیے

 

برائی ہی برائی پھیلی ہے ہر سو زمانے میں

ضروری ہے یہاں پر اپنے ایماں کو بچا لیجیے

 

عبادت کرکے مولی کی اطاعت کرکے آقا کی

بروز حشر جنت جانے کا رستہ بنا لیجیے

 

نبی کو اپنے جیسا کہہ کے کیوں غراتے رہتے ہیں

ابھی بھی وقت ہے عادت چھڑانے کا چھڑا لیجیے

 

ہے دل افسردہ ہجر سید کونین میں نوری؟

تو آنکھیں بند کرکے نعت سرور گنگنا لیجیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ