اردوئے معلیٰ

حبیبِ خالقِ کون و مکاں سے نسبت ہے

حبیبِ خالقِ کون و مکاں سے نسبت ہے

کہاں کی خاک ہوں میں اور کہاں سے نسبت ہے

 

بلائیں لے کے بلائیں مری پلٹتی ہیں

انہیں خبر ہے کہ میری کہاں سے نسبت ہے

 

سبھی صحابہ ہمارے ہیں ہادی و رہبر

سبھی نجوم کو اک کہکشاں سے نسبت ہے

 

مہک رہے ہیں وہی پھول دائما ابدا

جنہیں رسول کے اس گلستاں سے نسبت ہے

 

اسے نہ خوف ہے کوئی نہ ہی کوئی غم ہے

وہ جس کسی کو بھی شاہ زماں سے نسبت ہے

 

خدا کا شکر کہ ہوں آپ کی غلامی میں

خدا کا فضل کہ اس مہرباں سے نسبت ہے

 

قمرؔ سخن ہے فقط نعتِ سیّدِ عالم

کلام ہے جسے ان کے بیاں سے نسبت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ