حبیبِ کبریاؐ کی بات کرتے ہیں

 

حبیبِ کبریاؐ کی بات کرتے ہیں

محمد مصطفیٰ کی بات کرتے ہیں

 

پریشاں ہو زمانے کی صعوبت سے

چلو صلِّی علیٰ کی بات کرتے ہیں

 

معطّر ہیں فضائیں مشک و عنبر سے

مدینے کی ہوا کی بات کرتے ہیں

 

ارادہ باندھتے ہیں اُس سفر کا پھر

صفا ، مروہ ، حرا کی بات کرتے ہیں

 

تصّور میں ہوئی کن من ، کبھی رِم جھِم

مدینے کی گھٹا کی بات کرتے ہیں

 

عطائے نعت میری خوش نصیبی ہے

وضو کر کے ثنأ کی بات کرتے ہیں

 

رسالت ختم جس اُمی لقب پر اُس

اِمام الانبیأ کی بات کرتے ہیں

 

سراسر جو کہ منبع ہے ہدایت کا

اُسی نورِ ہدیٰ کی بات کرتے ہیں

 

طلب کی سوچتے ہیں مرتضیٰ اشعرؔ

عطا کی اور سخا کی بات کرتے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یا صاحب الجمال و یا سید البشر
ابرِ کرم ہے جن کی ذات، وجۂ سکوں ہے جن کا نام
نگاہِ ملتفت آقاؐ مرے مجھ پر سدا رکھنا
دل و جاں میں قرار آپؐ سے ہے
وہ خوش قسمت ہیں جن کی آپؐ کے در تک رسائی ہے
درِسرکارؐ کا جو بھی گدا ہو
چلو شہر نبیؐ کی سمت سب عشاق چلتے ہیں
مرے آقاؐ حبیب کِبریا ہیں
’’ لے رضاؔ سب چلے مدینے کو ‘‘
’’تلاطم کیسا ہی کچھ ہو مگر اے ناخدائے من‘‘