حبیب ربُّ العلا محمد شفیعِ روزِ جزا محمد

 

حبیب ربُّ العلا محمد شفیعِ روزِ جزا محمد

نگاہ کا مدعا محمد، خیال کا آسرا محمد

 

انہی سے دنیا میں روشنی ہے انہی سے عرفان وآگہی ہے

ہیں آفتابِ جہاں محمد، جمالِ نورِ خدا محمد

 

یہی ہیں زخمِ جگر کا مرہم انہی کا ہے اسم، اسمِ اعظم

قرار بے تابیوں کو آیا زباں سے جب کہہ دیا محمد

 

خدا سے جو کچھ بھی مانگنا ہے اسی وسیلے سے مانگ لیں گے

خدا کا بھی وہ التجا سنے گا، سنیں گے جو التجا محمد

 

انہیں کے نقشِ قدم گئے ہیں خدا کے عرفان و معرفت تک

خداشناسی ہے جس کی منزل اسی کے ہیں رہ نما محمد

 

میں اپنی عقبیٰ سنوارتا ہوں، انہی کو پیہم پکارتا ہوں

مری زباں پر ہے یا حبیبی، مرا وظیفہ ہے یا محمد

 

اسی تمنا میں جی رہا ہوں کہ جا کے روضے کی جالیوں پر

سناوؔں حالی دلی میں ان کو، سنیں مرا ماجرا محمد

 

درود بھیجا ہے خود خدا نے، ز کو ان کے کون جانے

کہیں وہ محمودِ کبریا تھے، کہیں لقب ان کا تھا محمد

 

ہے بارِ عصیاں صبا کے سر پر نہ کوئی ساتھی نہ کوئی یاور

قدم لرزتے ہیں روزِ محشر سنبھالیے آکے یا محمد

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اہلِ صراط روحِ امیں کو خبر کریں
گنہ گاروں کو ہاتف سے نویدِ خوش مآلی ہے
دل میں ہے خیال رخ نیکوئے محمدﷺ
میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں​
خدا کا ذکر کرے ذکرِ مصطفیٰ نہ کرے
گنہ آلود چہرے اشک سے ڈھلوائے جاتے ہیں
زہے نصیب ! یہ دولت اگر بہم ہو جائے
بڑا احسان ہےمجھ پرخدا کا
یہ اُمّتی ناچیز ہو، دربارِ نبی ہو
مومن وہی ہے ان سے جو عہد وفا کرے