اردوئے معلیٰ

Search
حدیثِ من زار قبری سن کر
یہ قلبِ عاصی میں فکر جاگی
کہ شہرِ لطف و عطا میں جا کر
ادا کروں اک نماز میں بھی
مگر وہ بارِ گناہ ہے کہ
میں کھینچتا ہوں وجود اپنا
گھسٹ گھسٹ کر میں چل رہا ہوں
ہر ایک زائر
میانِ رستہ ہی چھوڑ جاتاہے مجھ کو آقا
کریم میرے، یہ تیرا بندہ
ترے کرم اور تیری رحمت
کے آسرے پر
برائے دیدارِ شہرِ طیبہ
برائے بخشش نکل پڑا ہے
کرم کی اپنے پھوار کردے
وطن سے طیبہ کے فاصلے کو
تو ایک پَل میں شمار کردے
اُتار لوں میں بھی اپنے دل میں
وہ عکسِ گنبد، سنہری جالی
فقیرِ ہجر و فراق ہوں میں
میں خالی دامن یوں بھر لوں اپنا
پھر ایک سجدہ طمانیت میں
ادا کروں جب بہ سوئے کعبہ
اس ایک سجدے میں جاں بہ لب ہو
تڑپ رہا ہوں کہ ایسا کب ہو
دعا ہے بعدِ وصال میرے
برائے مدفن
وہیں کہیں پر
مجھے بھی دو گز
ہبا کریں تو امان پاؤں
کرم کی نوری زمیں جہاں پر
نہیں پہنچتے خزاں کے پاؤں
یہ خواب لایا ہوں در پہ بن کر
حدیثِ من زارِ قبری سن کر
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ