حرا سے پھوٹی پہلی روشنی ہے

حرا سے پھوٹی پہلی روشنی ہے

بہر سو روشنی ہی روشنی ہے

 

مدینے میں دیا ہے ایک روشن

زمانے بھر میں جس کی روشنی ہے

 

میں ان کے در کے زائر دیکھ لوں تو!

مرے دل میں اترتی روشنی ہے

 

سیاہی کا یہاں پر کام ہے کیا؟

مدینہ ہے چمکتی روشنی ہے

 

ذرا تم نام ان کا لکھ کے چومو!

تو دیکھو ملتی کتنی روشنی ہے

 

جو رکھتے ہیں محبت مصطفی کی

لحد میں ان کی رہتی روشنی ہے

 

تمنا ہے کہ دیکھوں میں بھی آصفؔ

ہرے گنبد کی کیسی روشنی ہے

 

دلِ آصف کیا ہے جس نے روشن

وہ بس مہرِ حرا کی روشنی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات