اردوئے معلیٰ

حرا سے پھوٹی پہلی روشنی ہے

بہر سو روشنی ہی روشنی ہے

 

مدینے میں دیا ہے ایک روشن

زمانے بھر میں جس کی روشنی ہے

 

میں ان کے در کے زائر دیکھ لوں تو!

مرے دل میں اترتی روشنی ہے

 

سیاہی کا یہاں پر کام ہے کیا؟

مدینہ ہے چمکتی روشنی ہے

 

ذرا تم نام ان کا لکھ کے چومو!

تو دیکھو ملتی کتنی روشنی ہے

 

جو رکھتے ہیں محبت مصطفی کی

لحد میں ان کی رہتی روشنی ہے

 

تمنا ہے کہ دیکھوں میں بھی آصفؔ

ہرے گنبد کی کیسی روشنی ہے

 

دلِ آصف کیا ہے جس نے روشن

وہ بس مہرِ حرا کی روشنی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات