اردوئے معلیٰ

Search

حرفِ رسوا ہوں کہ تشہیر ہوں ، جانے کیا ہوں

تیری تذلیل ہوں ، توقیر ہوں ، جانے کیا ہوں

 

تو ہے موجود کہ امکان ہے جانے کیا ہے

میں حقیقت ہوں کہ تصویر ہوں ، جانے کیا ہوں

 

یہ تخیل ہے کہ منظر ہے نہ جانے کیا ہے

میں کوئی خواب ہوں تعبیر ہوں ، جانے کیا ہوں

 

حرف آفاق سے اترے ہیں صحیفہ ہو کر

میں مگر خاک پہ تحریر ہوں ، جانے کیا ہوں

 

ہاتھ جوڑوں تو کبھی ناز دکھاؤں تم کو

میں ہوں احسان کہ تقصیر ہوں ، جانے کیا ہوں

 

یوں بھی ہوتا ہے کبھی خود سے گزر جاتا ہوں

راستہ ہوں کہ میں رہگیر ہوں ، جانے کیا ہوں

 

ہر نئے درد کی ملتی ہے کڑی کڑیوں سے

نارسائی کی میں زنجیر ہوں ، جانے کیا ہوں

 

میری باچھیں کہ لگاموں سے چِری جاتی ہیں

میں جو کہنے کو عناں گیر ہوں ، جانے کیا ہوں

 

میں نہیں لمحہِ موجود ، یہ طے ہے ناصر

اب میں عجلت ہوں کہ تاخیر ہوں ، جانے کیا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ