اردوئے معلیٰ

حروفِ زر ناب کا حسیں انتخاب نکلے

حروفِ زرناب کا حسیں انتخاب نکلے

مرے کفن سے نعوتِ شہ کی کتاب نکلے

 

وہ قاب قوسین کی حقیقت سمجھ گئے تھے

تو ایک اک کر کے درمیاں سے حجاب نکلے

 

پکارا جب بھی رسولِ اکرم کا نامِ نامی

سلگتے صحراؤں سے مہکتے گلاب نکلے

 

سفر میں تشنہ لبوں کے جب خشک ہونٹ دیکھے

تو انگلیوں سے تھمے ہوئے پنج آب نکلے

 

جو یاد آئیں مدینے کی مشکبار گلیاں

ہماری پلکوں سے آنسوؤں کے چناب نکلے

 

وہ ایک صورت ہے جس کی سیرت میں کامرانی

سوائے اس کے سبھی تصور سراب نکلے

 

ہمارا سینہ جو چیر کر دیکھ لیں فرشتے

ہمارے سینے سے دیدِ سرور کا خواب نکلے

 

شفاعتوں نے گناہ گاروں کو دی تسلی

برائے محشر جو شاہِ عالی جناب نکلے

 

قلم کو اشفاق نعت ہی کا غلام رکھا

سو لفظ میرے قلم سے سب لاجواب نکلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ