حروفِ زر ناب کا حسیں انتخاب نکلے

حروفِ زرناب کا حسیں انتخاب نکلے

مرے کفن سے نعوتِ شہ کی کتاب نکلے

 

وہ قاب قوسین کی حقیقت سمجھ گئے تھے

تو ایک اک کر کے درمیاں سے حجاب نکلے

 

پکارا جب بھی رسولِ اکرم کا نامِ نامی

سلگتے صحراؤں سے مہکتے گلاب نکلے

 

سفر میں تشنہ لبوں کے جب خشک ہونٹ دیکھے

تو انگلیوں سے تھمے ہوئے پنج آب نکلے

 

جو یاد آئیں مدینے کی مشکبار گلیاں

ہماری پلکوں سے آنسوؤں کے چناب نکلے

 

وہ ایک صورت ہے جس کی سیرت میں کامرانی

سوائے اس کے سبھی تصور سراب نکلے

 

ہمارا سینہ جو چیر کر دیکھ لیں فرشتے

ہمارے سینے سے دیدِ سرور کا خواب نکلے

 

شفاعتوں نے گناہ گاروں کو دی تسلی

برائے محشر جو شاہِ عالی جناب نکلے

 

قلم کو اشفاق نعت ہی کا غلام رکھا

سو لفظ میرے قلم سے سب لاجواب نکلے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اللہ کے بعد نام ہے میرے حضور کا
ہے دل میں جلوۂ رُخِ تابانِ مصطفےٰ
عیدِ میلاد ہے آج کونین میں ، ہر طرف ہے خوشی عیدِ میلاد کی
آنکھوں میں اشک، دل میں ہو الفت رسول کی
اے کاش! تصور میں مدینے کی گلی ہو
آپ نےاک ہی نظرمیں مجھکوجل تھل کردیا
عدو کے واسطے، ہر ایک امتی کے لیے
نہ دولت نہ جاہ وحشم چاہتا ہوں
اندازِ کرم بھی ہے جدا شانِ عطا بھی
محمد مصطفیٰ سالارِ دیں ہیں

اشتہارات