حریمِ قلب سنگِ در سے لف رکھا ہوا ہے

حریمِ قلب سنگِ در سے لف رکھا ہوا ہے

یہ دھیان اپنا مدینے کی طرف رکھا ہوا ہے

 

روایت کے مطابق ان کا استقبال ہوگا

کہ ہم نے دل نہیں سینے میں دف رکھا ہوا ہے

 

نظر فرمائیں گے تو گوہرِ نایاب ہوگا

درِ سرکار پر دل کا خذف رکھا ہوا ہے

 

سرِ افلاک جس کی دھوم ہے وہ سبز گنبد

زمیں کی گود میں گویا صدف رکھا ہوا ہے

 

کوئی تو بارگاہِ نعتِ میں مقبول ہوگا

ہر اک حرفِ سخن کو صف بہ صف رکھا ہوا ہے

 

سرِ مژگاں سجا کر خواب کی خواہش کے دیپک

بس اک دیدار آنکھوں کا ہدف رکھا ہوا ہے

 

مشاغل کھو چکے ہیں دل کشی اشفاق ناعت

فقط اک نعت گوئی کا شغف رکھا ہوا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ