حریمِ قلب سنگِ در سے لف رکھا ہوا ہے

حریمِ قلب سنگِ در سے لف رکھا ہوا ہے

یہ دھیان اپنا مدینے کی طرف رکھا ہوا ہے

 

روایت کے مطابق ان کا استقبال ہوگا

کہ ہم نے دل نہیں سینے میں دف رکھا ہوا ہے

 

نظر فرمائیں گے تو گوہرِ نایاب ہوگا

درِ سرکار پر دل کا خذف رکھا ہوا ہے

 

سرِ افلاک جس کی دھوم ہے وہ سبز گنبد

زمیں کی گود میں گویا صدف رکھا ہوا ہے

 

کوئی تو بارگاہِ نعتِ میں مقبول ہوگا

ہر اک حرفِ سخن کو صف بہ صف رکھا ہوا ہے

 

سرِ مژگاں سجا کر خواب کی خواہش کے دیپک

بس اک دیدار آنکھوں کا ہدف رکھا ہوا ہے

 

مشاغل کھو چکے ہیں دل کشی اشفاق ناعت

فقط اک نعت گوئی کا شغف رکھا ہوا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
طیبہ کے مسافر کو کہہ دو کہ سنبھل جائے
جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

اشتہارات