اردوئے معلیٰ

حسابِ سود و زیاں بعد میں بتاتا ہوں

غبارِ خانہِ برباد بیٹھ تو جائے

 

خموش جھیل پہ ساکت ہے زرد چاند جہاں

وہیں پہ سر کو جھکائے کھڑے ہیں دو سائے

 

بس ایک بار تعین تو منزلوں کا کرے

مجھے جنون بھلے راہ بھی نہ دکھلائے

 

ہوائے ہجر کثافت میں ریت ہو جیسے

میں چاہتا ہوں مجھے سانس بھی نہیں آئے

 

مرے خیال میں بہتر رہے گا میں نہ رہوں

بتائیے کہ بھلا آپ کی ہے کیا رائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات