اردوئے معلیٰ

حسرتِ دل ہے اُن کا حرم سامنے

سبز گنبد رہے دم ، بدم سامنے

 

زندگی کا سفر یونہی چلتا رہے

پاؤں اُن کا کرم ہر قدم سامنے

 

محفلِ نعت ہو اور لب پہ ثنا

صدرِ محفل ہوں شاہِ اُمم سامنے

 

اس لیے مٹ گیا خوفِ روزِ جزا

میرے سرکار ہیں ہمہ دم سامنے

 

آپ کی شان و عظمت کو تکتے ہوئے

سر ہوئے شرک و بدعت کے خم سامنے

 

یہ رضاؔ بھی اٹھائے سدا ، ہر جگہ

آپ کے دیں کا اونچا عَلَم سامنے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات