حسرتِ دل ہے اُن کا حرم سامنے

حسرتِ دل ہے اُن کا حرم سامنے

سبز گنبد رہے دم ، بدم سامنے

 

زندگی کا سفر یونہی چلتا رہے

پاؤں اُن کا کرم ہر قدم سامنے

 

محفلِ نعت ہو اور لب پہ ثنا

صدرِ محفل ہوں شاہِ اُمم سامنے

 

اس لیے مٹ گیا خوفِ روزِ جزا

میرے سرکار ہیں ہمہ دم سامنے

 

آپ کی شان و عظمت کو تکتے ہوئے

سر ہوئے شرک و بدعت کے خم سامنے

 

یہ رضاؔ بھی اٹھائے سدا ، ہر جگہ

آپ کے دیں کا اونچا عَلَم سامنے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آنکھیں جو خدا دے تو ہو دیدار محمد
پادشاہا! ترے دروازے پہ آیا ہے فقیر
خوشا نصیب یہ بندہ بھی نعت کہتا ہے
واللّیل ضیائے زلفِ دوتا رخسار کا عالم کیا ہوگا
ہوئی ہے رُوح مری جب سے آشنائے درود
جُز آپ کے اے شاہِ رسولاں نہیں دیکھا
جیسے چُھپ جاتی ہے تیرہ شب سحر کے سامنے
کرم کے بادل برس رہے ہیں
اے خوشا آندم کہ گردم مست بایت یا رسول
ہجر تیرا مجھر اچھا نہیں ہونے دے گا

اشتہارات