اردوئے معلیٰ

حسرت سے کھُلے گا نہ حکایت سے کھُلے گا

اب بابِ اثر صیغۂ مدحت سے کھُلے گا

 

ممکن نہیں حرفوں کے تواتر سے وہ اُبھرے

وہ اسمِ کرم موجۂ نکہت سے کھُلے گا

 

دیکھیں گے ارَم جا کے مدینے کی گلی میں

حیرت کا جہاں کوچۂ حیرت سے کھُلے گا

 

معراج نے بخشے ہیں نئے شوقِ ترفّع

افلاک کا در آپ کی رفعت سے کھُلے گا

 

اُمیدِ زیارت میں ہے خوابیدہ یہ منظر

سو آنکھ کا گھر لمعۂ طلعت سے کھُلے گا

 

خاموش دھرے ہوں گے ریاضت کے وظیفے

بخشش کا دریچہ تری رحمت سے کھُلے گا

 

یہ جو کفِ احساس میں ہے حرفِ تسلی

اے جانِ کرم ! تیری عنایت سے کھُلے گا

 

رنگینیٔ دُنیا ترے تلووں کا ہے دھووَن

محشر کا سماں شوخیٔ قامت سے کھُلے گا

 

امکان میں لانے کو تری نعت کا منظر

حرفوں کا جہاں خامۂ نُدرت سے کھُلے گا

 

سَو وہم میں اُلجھا ہُوا تدبیر کا رستہ

مقصودؔ! یہ اب اسمِ کرامت سے کھُلے گا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات