حسنِ لاریب محمد کے خد و خال میں ہے

حسنِ لاریب محمد کے خد و خال میں ہے

جوہرِ انگبیں سرکار کے اقوال میں ہے

 

اور کچھ خاص نہیں فردِ عمل میں لیکن

توشۂ نعت مرے نامۂ اعمال میں ہے

 

زائرینِ درِ سرور یہ بتاتے ہیں ہمیں

بارشِ جود و عطا آپ کے افعال میں ہے

 

وہ جو ہے قاسم و مختار و سخی و داتا

کرم کی خو بھی اسی سرور و لجپال میں ہے

 

اے شہِ کون و مکاں آپ تو سب جانتے ہیں

میرا دل کس کا تمنائی ہے کس حال میں ہے

 

رفعتِ وصلِ مدینہ میں اڑے گا اک دن

طائرِ قلب ابھی ہجر کے پاتال میں ہے

 

کیسا اعزاز یہ اشفاق ملا ہے تجھ کو

خامۂ عجز ترا نعت کے اشغال میں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جسے عشق شاہ رسولاں نہیں ہے
کتنا سادہ بھی ہے سچا بھی ہے معیار ان کا
اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوا
یہ آرزو ہے جب بھی کُھلے اور جہاں کُھلے
اُس ایک ذات کی توقیر کیا بیاں کیجے
رحمت عالم محمد مصطفی
مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو
آرام گہِ سید سادات یہ گنبد
محفل میں تھا اکیلا , تھے جذبات منفرد
اے عشقِ نبی میرے دل میں بھی سما جانا

اشتہارات