اردوئے معلیٰ

حسن دھرتی پہ ہی خلد کا دیکھ لے

حسن دھرتی پہ ہی خلد کا دیکھ لے

چل مدینے کی نوری فضا دیکھ لے

 

دیکھنا ہے اگر جلوۂ مصطفٰی

کھول کر سورۂ و الضحٰی دیکھ لے

 

دردِ فرقت میں ہے زندگی کا مزہ

دردِ فرقت کا لے کے مزہ دیکھ لے

 

اب تڑپنا بھی کیا اے مری چشمِ نم

سامنے وہ ہے گنبد ہرا دیکھ لے

 

مشعلِ راہ کی گر ہے حاجت تجھے

نقشِ پائے حبیبِ خدا دیکھ لے

 

دور ہوں گی نہ کیوں کر یہ تاریکیاں

نور والے کی نوری ادا دیکھ لے

 

مجھ سے کہتی ہے آسی یہ بادِ صبا

چل دیارِ شہِ دوسرا دیکھ لے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ