حسن و جمالِ اُسوۂ آقا ﷺ پہ ہو نظر!

حسن و جمالِ اُسوۂ آقا ﷺ پہ ہو نظر!

زِنہار دھیان ہو نہ قریب و بعید کا

 

کر ان کا ذکر اور سنا کر انہی کی بات

مقصود ہو فقط یہی گفت و شنید کا

 

افسانیہ سنیے یار کا ذکر اس کا کیجیے

مقصود ہے یہی مری گفت و شنید کا

(کلیات آتشؔ۔ ص ۳۰۰) ہفتہ : ۹؍ ذیقعدہ ۱۴۲۹ھ…۸؍ نومبر ۲۰۰۸ء
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جس در سے کوئی شاہ و گدا خالی نہ لوٹا
رحمتِ داور، سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم
جو لوگ خدا کی ہیں عبادت کرتے
مرے دل کی صدا، حبیبِ خداؐ
صاحبِ حُسن و جمال آیا ہوں
حبیبِ کبریا بن کر شہِ ارض و سما آئے
سرِافلاک تھی سرکارؐ کی جب آمد آمد
یہ محبوبِ خداؐ کا آستاں ہے
بن کے پنچھی میں کاش اڑا ہوتا
’’سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہو جائے‘‘