حسین ہونٹ اگر ہیں تو گال اپنی جگہ

حسین ہونٹ اگر ہیں تو گال اپنی جگہ

ہیں تم پہ نصب سبھی خدوخال اپنی جگہ

 

مرے غرور نے آتے ہی گھٹنے ٹیک دیئے

تھا حسنِ یار کا جاہ و جلال اپنی جگہ

 

نظریہ ایک تھا پر ہم تھے مختلف جیسے

جنوب اپنی جگہ ہو شمال اپنی جگہ

 

نہ زورِ بازوئے فرہاد ہے نہ ضربِ کلیم

سو آپ آبِ رواں تُو نکال اپنی جگہ

 

یہ کس نے پیار پہ میرے کسا ہے آوازہ؟

ذرا کھڑا ہو وہ مائی کا لال اپنی جگہ

 

سو اپنے ساتھ محبت نے بھی بھلی نہیں کی

کہ چُور چُور ہو تم، میں نڈھال اپنی جگہ

 

نظر چراتے ہوئے بات مت بدل ، یہ دیکھ

کہ تیرا اٹھ رہا ہے بال بال اپنی جگہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
کچھ تو اپنے ہیں مرے دل میں سمائے ہوئے لوگ
الماری میں سُوکھے پھول نظر آئے
گر تمہیں شک ہے تو پڑھ لو مرے اشعار، میاں
ہوا،صحرا،سمندر اور پانی،زندگانی
تو سنگِ درِ یار سلامت ہے ، جبیں بھی؟
لاکھ قسمیں دی گئیں ، سو خواب دکھلائے گئے
بالفرض میں جنون میں بھر بھی اڑان لوں

اشتہارات