حشر میں پھیلے گا جب سایۂ غُفرانِ وسیع

حشر میں پھیلے گا جب سایۂ غُفرانِ وسیع

ڈھانپ لے گا وہ مرا دفترِ عصیانِ وسیع

 

بے طلب ملتا ہے ہر ایک کو حاجت سے سوا

سب کی کرتا ہے کفایت ترا فیضانِ وسیع

 

در بدر خوار ہوں کیوں، غیر کا منہ کیا دیکھیں

ہم فقیروں کو خوش آیا ہے ترا خوانِ وسیع

 

وہ جو نُصرت کا تری گونجا تھا میثاقِ ازل

تا ابد چمکے گا اب ایک ہی فرمانِ وسیع

 

حشر میں ہونی ہے تفہیمِ مقامِ محمود

ٹھوکریں کھائے ابھی فہم کا میدانِ وسیع

 

نعت ہی کام بنائے گی یہاں اور وہاں

شکر ہے زیست کو بخشا گیا سامانِ وسیع

 

مظہرِ فتحِ مبیں تھا ترا مکہ میں ورود

مژدئہ مُطلَقِ کُل تھا ترا اعلانِ وسیع

 

ڈھونڈیں گے، ڈھونڈتے رہ جائیں گے محشر والے

جب چھُپا لے گا مجھے آپ کا دامانِ وسیع

 

اذن کا جھونکا اُتر آتا ہے خود نعت بہ کف

سَر اُٹھاتا ہے جو بھُولے سے بھی حرمانِ وسیع

 

عرصۂ نُورِ مُجسم وہ ترا عہدِ طرب

وہ تریسٹھ میں چمکتا ہُوا قُرآنِ وسیع

 

حدِ احساس سے بڑھ کر ہیں عطائیں جس کی

مجھ کو مقصودؔ میسر ہے وہ پیمانِ وسیع

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات