اردوئے معلیٰ

حصارِ خیر میں رکھی رہیں صدائیں سب

عطائیں ساتھ اُڑا لے گئیں دُعائیں سب

 

بس ایک حرفِ شفاعت کی دیر تھی واللہ

یہیں دھرے کی دھری رہ گئیں خطائیں سب

 

مَیں چوم لیتا ہوں مُشکل کُشا کا اِسمِ علی

وہ ٹال دیتے ہیں جتنی بھی ہوں بلائیں سب

 

وفورِ شوق میں رقصاں ہے تیرے اِسم کا نور

وجودِ حُسن میں تاباں تری ادائیں سب

 

ورائے نور رواں تھا وہ پیکرِ خاکی

سو رہگذار میں بکھری تھیں کہکشائیں سب

 

وہ تیرا نکتۂ آغازِ دید تھا کہ جہاں

وِداع کے پاؤں سے لپٹی تھیں انتہائیں سب

 

حضور آپ کا در ہے تو کیوں نہ پائیں خیر

حضور آپ کا گھر ہے تو کیوں نہ کھائیں سب

 

بس ایک لمحے کو سُورج نے آنکھ جھپکی تھی

کہ زُلفِ نور سے وارد ہوئیں ضیائیں سب

 

بلاوا آنے کا پھر سے ہے عندیہ مقصودؔ

کہ آ رہی ہیں مدینے سے ہی ہوائیں سب

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات